کاروار:26؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز )حالیہ برسوں میں پڑوسی ریاست کیرلا میں سال میں ایک نہ ایک مرتبہ مرغی بخار (برڈ فلو) کا ابل پڑنا اور اس کی وجہ سےہزاروں مرغیوں کو مارڈالنا چلتا آرہاہے۔ اب پھر اور ایک مرتبہ مرغی بخار کا واویلا زورروں پر ہونے سے ریاست کرناٹک کی مرغی صنعت پر اس کے بہت برے اثرات ہونے جارہےہیں ، اگر مرغی بخار کے معاملات میں اضافہ ہواتو پھر کرناٹک میں بھی عوام مرغیوں کےگوشت کی خریداری کے لئے پس وپیش کرنےکے خدشات ظاہر کئے جارہےہیں۔
برڈ فلو کے متعلق کہاجاتاہےکہ یہ ایک وبائی بیماری ہے، دنیا بھر میں پھر ایک بار کورونا وباء کی دھوم مچائی جارہی ہے تو ادھر کیرلا میں برڈ فلو کا ہنگامہ شروع ہواہے۔ برڈ فلو سےمتاثر 6ہزار سےزائد مرغیوں اور پرندوں کو ہلاک کیاگیا ہے۔ کیرلا کےکوٹائم ضلع کے تین الگ الگ پنچایتوں میں اچانک مرغی بخار دیکھی گئی تویہاں 6000سے زائد مرغیوں اور پرندوں کا قتل ہواہے۔ کوٹائم ضلع کے ویچور، نندوراور ارپوکر پنچایت حدود میں 6017پرندے ، زیادہ تر بطخ کے ہلاک ہونےکی ضلع انتظامیہ نے تصدیق کی ہے۔ ویچور میں قریب 133بطخ اور 156 مرغیاں ، نندور میں 2753بطخ اور ارپوکر میں 2975بطخ ہلاک ہونےکی جانکاری دی گئی ہے۔
کرناٹک میں کیا ہوگا؟:کیرلا میں جب بھی برڈ فلو پھیلتا ہے تو اس کاراست اثر کرناٹک کی مرغی صنعت پر ہوتاہے۔ گذشتہ سال بھی اسی وقت پر مرغی بخار پھیلی تھی ۔ اس سےپہلےوالےسال میں بھی کیرلا میں بڑد فلو کےمعاملات درج ہوئے تھے۔ کیرلا میں مرغیاں مجموعی پر ہلاک ہوتی ہیں تو کرناٹک میں خطرہ محسوس کیاجاتاہے۔ کرناٹک میں گذشتہ سال بھی ہزاروں مرغیوں کو ہلاک کئےجانے کے علاوہ دو مہینوں تک مرغی کے گوشت کی مانگ میں بھاری کمی دیکھی گئی تھی۔ اگر کیرلا کےمعاملات میں اضافہ ہوتارہا تو پھر کرناٹک میں مرغی گوشت کی قیمتوں بھاری گراوٹ ہونےکا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ اسی طرح کیرلا میں برڈ فلو معاملات میں اضافہ کو دیکھتےہوئے لکش دیپ نے کیرلا سےمرغیوں کی سپلائی پر پابندی لگا دی ہے۔